آج کا دینی سوال(03)

 



حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ،ایک مرتبہ نبیِ پاکﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور پھر ہماری طرف متوجہ ہوۓ اور آپﷺ نے ایسا عمدہ وعظ فرمایا جس سے آنکھیں بہنے لگی اور دل کانپنے لگے۔ایک شخص نے عرض کیا،یارسول اللہﷺ! یہ تو جانے والے اور الوداع کہنے والے کی نصیحت معلوم ہوتی ہے تو آپ ہمیں کچھ وصیت فرمادیں۔

آپ بتائیں اس وقت نبیِ کریمﷺ نے کیا ارشاد فرمایا؟۔




  جواب

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تم کو وصیت کر تاہوں کہ اللہ تعالی سے ڈرتے رہو اور تم کو (مسلمان ) امیر کی اطاعت کا حکم دیتا ہوں اور اس کی باتوں کو سن کر بجا لانے کی وصیت کر تاہوں اگر چہ وہ امیر حبشی غلام ہو۔ تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گاوہ بہت سارے اختلاف دیکھے گا۔ ایسے وقت میں تم میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا اور اس پر مضبوطی سے قائم رہنا اور دین میں نئی نئی باتیں ( یعنی نئے عقیدے اور نئے عمل پیدا کرنے سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔


حوالہ کتب ! صراطِ مستقیم کورس صفحہ نمبر 28




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آج کا دینی سوال نمبر(01)

چوتھا عظیم الشان جلسہِ اصلاحِ معاشرہ و آفتاب سرؒ دینی تقریب تقسیم انعامات

کا دینی سوال(06)

آج کا دینی سوال(08)

آج کا دینی سوال(05)